5 اشعار

کل رات جگمگاتا ہوا چاند دیکھ کر

Kal raat jagmagata hua chaand dekh kar

کل رات جگمگاتا ہوا چاند دیکھ کرسائے نکل پڑے تھے بدن سے ادھر ادھر

دروازہ بند کر کے بہت خوش ہوا تھا میںکوٹھے پھلانگنے لگیں رسوائیاں مگر

میں ڈوبنے گیا تو کنارا پکار اٹھایہ خواب تو نہیں ہے پہ صاحب ادھر کدھر

ماتم بھی ہو ہی جائے گا مر کے تو دیکھیےاتنے بہت سے لوگ ہیں اتنے بہت سے گھر

علویؔ غزل تو کہنے چلے ہو نئی مگررکھ دو نہ تم خیال کے بخیے ادھیڑ کر

— محمد علوی