5 اشعار

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیں

safar mein sochte rehte hain chhaon aaye kahin

سفر میں سوچتے رہتے ہیں چھاؤں آئے کہیںیہ دھوپ سارا سمندر ہی پی نہ جائے کہیں

میں خود کو مرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوںیہ ڈر بھی ہے کہ مری آنکھ کھل نہ جائے کہیں

ہوا کا شور ہے بادل ہیں اور کچھ بھی نہیںجہاز ٹوٹ ہی جائے زمیں دکھائے کہیں

چلا تو ہوں مگر اس بار بھی یہ دھڑکا ہےیہ راستہ بھی مجھے پھر یہیں نہ لائے کہیں

خموش رہنا تمہارا برا نہ تھا علویؔبھلا دیا تمہیں سب نے نہ یاد آئے کہیں

— محمد علوی