3 اشعار

خوفناک کمرہ

Khaufnak Kamra

آنکھیں تڑپ اٹھی ہیں اندھیرے میں ڈوب کرکمرے میں اور کوئی نہیں کوئی ہے مگر

دیوار و در پہ ہانپ رہا ہے عجیب ڈرمیں سوچتا ہوں بھاگ ہی جاؤں مگر کدھر

ٹوٹا ہوا پڑا ہے مرا جسم فرش پر

— محمد علوی