9 اشعار

کھلونے

Khilaune

موٹر دوڑ لگاتی ہےچھک چھک گاڑی آتی ہے

توپ سے آگ نکلتی ہےپلین میں بتی جلتی ہے

گڑیا آنکھیں کھولتی ہےآگے پیچھے ڈولتی ہے

مرغی انڈے دیتی ہےچڑیا دانے لیتی ہے

کتا باجا سنتا ہےاونٹ کھڑا سر دھنتا ہے

بندر بینڈ بجاتا ہےہاتھی سونڈ نچاتا ہے

بھالو دارو پیتا ہےگائے کے اوپر چیتا ہے

سارے کھلونے ہیں لیکنیہ سب سچے لگتے ہیں

اور کھلونے جیسے تواپنے بچے لگتے ہیں

— محمد علوی