6 اشعار

کھڑکیوں سے جھانک کر گلیوں میں ڈر دیکھا کیے

KhiRkiyoN Se Jhaank Kar GaliyoN Mein Dar Dekha Kiye

کھڑکیوں سے جھانک کر گلیوں میں ڈر دیکھا کیےگھر میں بیٹھے رات دن دیوار و در دیکھا کیے

ایسا منظر تھا کہ آنکھیں دیکھ کر پتھرا گئیںپھر نہ دیکھا کچھ مگر نیزوں پہ سر دیکھا کیے

رات بھر سوچا کیے اور صبح دم اخبار میںاپنے ہاتھوں اپنے مرنے کی خبر دیکھا کیے

ایک تارا ناگہاں چمکا گرا اور بجھ گیاپھر نہ آئی نیند تارے رات بھر دیکھا کیے

وہ تو خوابوں میں بھی خوشبو کی طرح آتا رہاپھول کی مانند اس کو ہم مگر دیکھا کیے

کون تھا وہ کب ملا تھا کیا پتہ علویؔ مگردیر تک ہم اس کو آنکھیں موند کر دیکھا کیے

— محمد علوی