8 اشعار

خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

Khwab Mein Ek Makan Dekha Tha

خواب میں ایک مکاں دیکھا تھاپھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا

سونے رستے پہ سر شام کوئیگھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا

لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئیوہ جو بچوں کی طرح رویا تھا

رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھاچاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا

ایک میلا سا لگا تھا دل میںمیں اکیلا ہی پھرا کرتا تھا

ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میںشہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا

غم کے دریا میں تری یادوں کااک جزیرہ سا ابھر آیا تھا

کون آیا تھا مکاں میں علویؔکس نے دروازہ ابھی کھولا تھا

— محمد علوی