5 اشعار

رات ملی تنہائی ملی اور جام ملا

Raat Mili Tanhai Mili Aur Jaam Mila

رات ملی تنہائی ملی اور جام ملاگھر سے نکلے تو کیا کیا آرام ملا

ایک بہت ہی بوجھل شام کے آتے ہیسونے دل کو یادوں کا کہرام ملا

وہی محلہ وہی پرانا گھر تھا وہاںدروازے پر لیکن اور ہی نام ملا

کام کی خاطر دن بھر دوڑ لگاتے ہیںبیکاری میں آخر کچھ تو کام ملا

ملا نہ علویؔ نام ادب کے دفتر میںپانچ برس چپ رہنے کا انعام ملا

— محمد علوی