7 اشعار

زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھا

Zameen Kaheen Bhi Na Thi Chaar Su Samundar Tha

زمیں کہیں بھی نہ تھی چار سو سمندر تھاکسے دکھاتے بڑا ہول ناک منظر تھا

لڑھک کے میری طرف آ رہا تھا اک پتھرپھر ایک اور پھر اک اور بڑا سا پتھر تھا

فصیلیں دل کی گراتا ہوا جو در آیاوہ کوئی اور نہ تھا خواہشوں کا لشکر تھا

بلا رہا تھا کوئی چیخ چیخ کر مجھ کوکنویں میں جھانک کے دیکھا تو میں ہی اندر تھا

بہت سے ہاتھ اگ آئے تھے میری آنکھوں میںہر ایک ہاتھ میں اک نوک دار خنجر تھا

وہ جنگلوں میں درختوں پہ کودتے پھرنابرا بہت تھا مگر آج سے تو بہتر تھا

ہمارے واسطے علویؔ کے شعر کیا کم ہیںچلو قبول کہ غالبؔ بڑا سخن ور تھا

— محمد علوی