10 اشعار

رنگوں کا روپ زنانا ہے

Rangon ka roop zanana hai

رنگوں کا روپ زنانا ہےاک رنگ مگر مردانہ ہے

کالا ہے مگر سہانہ ہےیہ رنگ بہت ہی پرانا ہے

پہنچا ہے زمیں سے دور کہیںکیا اڑتا ہوا زمانہ ہے

ہم کو تو یقیں آتا ہی نہیںاک روز ہمیں مر جانا ہے

کبھی نیند میں اس کو دیکھوں تواک خواب اسے دکھلانا ہے

کہیں دور چمکتے پانی کویوںہی دور چمکتے جانا ہے

لڑنا بھڑنا ہے درختوں سےجنگل میں شور مچانا ہے

وہی رات کو اوڑھ کے سونا ہےوہی دن کا بوجھ اٹھانا ہے

یہ جو کاٹھ کباڑ سا ہے گھر میںیہی پونجی یہی خزانہ ہے

یہ جو دل کا خرابہ ہے علویؔیہی اپنا ٹھور ٹھکانہ ہے

— محمد علوی