7 اشعار

کیا کہتے کیا جی میں تھا

Kya kehte kya jee mein tha

کیا کہتے کیا جی میں تھاشور بہت بستی میں تھا

پہلی بوند گری ٹپ سےپھر سب کچھ پانی میں تھا

چھتیں گریں گھر بیٹھ گئےزور ایسا آندھی میں تھا

موجیں ساحل پھاند گئیںدریا گلی گلی میں تھا

میری لاش نہیں ہے یہکیا اتنا بھاری میں تھا

آخر طوفاں گزر گیادیکھا تو باقی میں تھا

چھوڑ گیا مجھ کو علویؔشاید وہ جلدی میں تھا

— محمد علوی