8 اشعار

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہے

Sher to sab kehte hain kya hai

شعر تو سب کہتے ہیں کیا ہےچپ رہنے میں اور مزا ہے

کیا پایا دیوان چھپا کرلو ردی کے مول بکا ہے

دروازے پر پہرہ دینےتنہائی کا بھوت کھڑا ہے

گھر میں کیا آیا کہ مجھ کودیواروں نے گھیر لیا ہے

میں ناحق دن کاٹ رہا ہوںکون یہاں سو سال جیا ہے

آگے پیچھے کوئی نہیں ہےکوئی نہیں تو پھر یہ کیا ہے

باہر دیکھ چکوں تو دیکھوںاندر کیا ہونے والا ہے

ایک غزل اور کہہ لو علویؔپھر برسوں تک چپ رہنا ہے

— محمد علوی