6 اشعار

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دے

Labon par yoon hi si hansi bhej de

لبوں پر یوں ہی سی ہنسی بھیج دےمجھے میری پہلی خوشی بھیج دے

اندھیرا ہے کیسے ترا خط پڑھوںلفافے میں کچھ روشنی بھیج دے

میں پیاسا ہوں خالی کنواں ہے تو کیاصراحی لیے اک پری بھیج دے

اگر تجھ کو فرصت نہیں تو نہ آمگر ایک اچھا نبی بھیج دے

بہت نیک بندے ہیں اب بھی ترےکسی پر تو یارب وحی بھیج دے

کہیں کھو نہ جائے قیامت کا دنیہ اچھا سمے ہے ابھی بھیج دے

— محمد علوی