26 اشعار

مچھلی کی بو

Machhli Ki Boo

بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا

''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کو

آلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گا

نیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کر

جو ہوٹل ہےاس ہوٹل کی

مچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گا

لیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہے

کل صابن بھی لانا ہےگھر آتے

لیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گا

آفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تو

دو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا تو

چھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گا

پکچر اچھی ہے سالینو سے بارہ

کلب رمیدو دن سے لک اچھا ہے

کل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوں

اور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گا

بس اب نیند آئے تو اچھاکل بھی

جیت کےنیند آئے تو

اکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگم

مچھلی کی بوتاش کے پتے

جوکر جوکرسوٹ پہن کر

موٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہ

سویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!

دوسرے دن جباس کا جنازہ

درزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بو

دور دور تک آئی تھی!!!

— محمد علوی