35 اشعار

میرا منا

Mera Munna

نیند میں مرا مناروز مسکراتا ہے

چسکیاں سی بھرتا ہےاور کھلکھلاتا ہے

نیند میں مرا مناخواب دیکھتا ہوگا

دودھ کی کئی نہریںخواب میں بہی ہوں گی

ننھے ننھے پودوں پرٹافیاں لگی ہوں گی

کیک کے مکاں ہوں گےجن کی چھت پہ مکھن کی

برف جم رہی ہوگیچاند ہنس رہا ہوگا

چاندنی کھلی ہوگیننھی منی چڑیائیں

نیلی پیلی گڑیائیںرقص کر رہی ہوں گی

ایک ٹانگ کا مرغابانگ دے رہا ہوگا

پچھلے پاؤں پر بھالوناچنے لگا ہوگا

کاٹھ کا حسیں گھوڑاہنہنا رہا ہوگا

جس پہ بیٹھ کر منامسکرا رہا ہوگا

اور اس کی اماں کیپیار سے بھری آنکھیں

ایک ایک کونے سےاس کو دیکھتی ہوں گی

نیند میں مرا مناروز مسکراتا ہے

چسکیاں سی بھرتا ہےاور کھلکھلاتا ہے

نیند میں مرا مناچونک چونک پڑتا ہے

ہڑبڑا سا جاتا ہےاور رونے لگتا ہے

نیند میں مرا مناخواب دیکھتا ہوگا

اک گھنا گھنا جنگلخواب میں رہا ہوگا

اونچے اونچے پیڑوں کیپھیلی پھیلی شاخوں پر

سانپ رینگتے ہوں گےسبز سبز پتوں کے

نرم نرم بستر پرشیر اونگھتے ہوں گے

ہاتھیوں کے دل کے دللمبی لمبی سونڈوں سے

گھاس کھا رہے ہوں گےجھاڑیوں میں چھپ چھپ کر

کالے کالے بن مانستیر پھینکتے ہوں گے

ہاں انہی درندوں میںہو نہ ہو مرا منا

گھر کے رہ گیا ہوگااور اس کی اماں کی

خوف سے بھری آنکھیںایک ایک کونے سے

اس کو دیکھتی ہوں گینیند میں مرا منا

چونک چونک پڑتا ہےہڑبڑا سا جاتا ہے

اور رونے لگتا ہےجاگ کر مرا منا

مجھ کو پاس پاتا ہےمیری گود میں آ کر

رونا بھول جاتا ہے

— محمد علوی