14 اشعار

مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ

Mujhe In Jazeeron Mein Le Jaao

مجھے ان جزیروں میں لے جاؤجو کانچ جیسے

چمکتے ہوئے پانیوں میں گھرے ہیںجہاں لڑکیاں

ناریل کے درختوں کے پتوں سےاپنے بدن کے

خطرناک حصے چھپاتی ہیںپھولوں کے گجرے پہن کر

بڑی شان سے مسکراتی ہیںبچے جہاں

ریت کے گھر بناتے ہیںاور ساحلوں کی چمکتی ہوئی ریت پر

لوگ سن باتھ لیتے ہیںپانی میں غوطہ لگا کر

سیپیاں مچھلیاں اور گھونگھے پکڑتے ہیںاور رات کو

چاندنی میںناچتے اور گاتے ہیں

اور پھونس کےننھے منے مکانوں میں

آرام کی نیند سو جاتے ہیںمجھے ان جزیروں میں لے جاؤ

جو کانچ جیسےچمکتے ہوئے پانیوں میں گھرے ہیں

تو ممکن ہے میںاور کچھ روز جی لوں

کہ شہروں میں ابمیرا دم گھٹ گیا ہے

— محمد علوی