7 اشعار

نہ جانے دل کہاں رہنے لگا ہے

Na jaane dil kahan rehne laga hai

نہ جانے دل کہاں رہنے لگا ہےکئی دن سے بدن سونا پڑا ہے

کسی جنگل میں کیوں جاتا نہیں ہےارے یہ پیڑ کیوں تنہا کھڑا ہے

منڈیروں پہ کبوتر ناچتے ہیںکواڑوں پر سیہ تالا پڑا ہے

کوئی تو گھر کی شمعوں کو جلائےدریچوں میں اندھیرا ہو چلا ہے

یہ دیواریں بھی اب گرنے لگی ہیںیہاں بھی وقت کا سایا پڑا ہے

چلا چل دیکھ ڈس جائے نہ تجھ کوترے پیچھے ترا سایا لگا ہے

صنوبر کی گھنی شاخوں پہ علویؔپرندوں کا عجب میلا لگا ہے

— محمد علوی