5 اشعار

نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیں

Naye shehar mein din begaane hote hain

نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیںرات انجانی خواب ڈرانے ہوتے ہیں

اس سے ہاتھ ملا کر جی کب بھرتا ہےہاتھوں پہ اس کے دستانے ہوتے ہیں

وہ میرے پاس آتا ہے لیکن اس نےاور کسی کو خط لکھوانے ہوتے ہیں

رات گئے خوشبو کمرے میں بھرتی ہےدیکھیں تو کچھ پھول سرہانے ہوتے ہیں

سچ جانو پھر اور نشہ بڑھ جاتا ہےعلویؔ کے جب شعر پرانے ہوتے ہیں

— محمد علوی