9 اشعار

نیند آئے تو

Neend Aaye To

خوف ناک جنگل میں جاؤںسانپ مار کے کچا کھاؤں

ناچوںگاؤں

شور مچاؤںننگی کالی حبشن کو

آنکھ مار کے پاس بلاؤںموٹے بھدے ہونٹوں کا

لمبا تگڑا بوسہ لوںبڑے بڑے پستانوں پر

سر رکھ کرگہری نیند میں سو جاؤں

آنکھ کھلے توحبشی کے نیزے کی نوک

چھاتی میں چبھتی پاؤںننگی کالی حبشن کی

پھٹی پھٹی بھوکی آنکھوں میںایک سے دو ہو جاؤں

— محمد علوی