16 اشعار

قرب و بعد

Qurb o Ba'ad

رات کو جب بھی آنکھ کھلی ہےمجھ کو یوں محسوس ہوا ہے

جیسے کوئیمیرے سرہانے کھڑا ہوا ہے

دو آنکھیںمیٹھی نظروں سے

میرا چہرا چوم رہی ہیںدو ہاتھوں کی نرمی

میرے رخساروں پر پھیل گئی ہےدو ہونٹوں کی گرمی

میری پیشانی میں جذب ہوئی ہےزلفوں کی لہراتی خوشبو

سانسوں میں رس بس سی گئی ہےکمرے کی خاموش فضا میں

گیتوں کے کچھ بول پرانےتیر رہے ہیں

کھڑکی کے پردوں کو جیسےابھی کسی نے ٹھیک کیا ہے

آتش داں کے بجھتے شعلےابھی ابھی بھڑکائے گئے ہیں

تکیہ جو بستر سے گرا تھااب سر اس پہ دھرا ہوا ہے

کمبل جو پیروں میں پڑا تھاسارا بدن اب ڈھانپ رہا ہے

مجھ کو یوں محسوس ہوا ہےجیسے تم

اب بھی کمرے میں کھڑی ہوئی ہواب بھی گھر میں بسی ہوئی ہو

لیکن تم تو چھوڑ کے مجھ کودور پرانے قبرستاں کی

سمٹی سکڑی اک تربت میںاک مدت سے چھپی ہوئی ہو!

— محمد علوی