7 اشعار

شکست

Shikast

دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیںباتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیں

ہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیںروز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیں

پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئےبرتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے

الماری نے آہیں بھرنا چھوڑ دیاصندوقوں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا

مٹھو ''بی بی روٹی دو'' کہتا ہی نہیںسونی سیج پہ دل بس میں رہتا ہی نہیں

سنگر کی آواز کو کان ترستے ہیںگھر میں جیسے سب گونگے ہیں بستے ہیں

تم کیا بچھڑے سمے سہانے بیت گئےلوٹ آؤ میں ہارا لو تم جیت گئے!

— محمد علوی