11 اشعار

رات بھر پی کے لڑکھڑاتے رہو

raat bhar pi ke laDkhaDate raho

رات بھر پی کے لڑکھڑاتے رہوصبح مسجد میں سر جھکاتے رہو

توڑ ڈالو طلسم بوئے گلموسم گل میں خاک اڑاتے رہو

محل تعمیر کر لو دریا میںریت میں کشتیاں چلاتے رہو

ہجر کی شب گزر ہی جائے گیتازہ فلموں کے گیت گاتے رہو

پھونس میں آگ دھر کے ہٹ جاؤچین کی بانسری بجاتے رہو

مت ڈرو ننھے منے اولوں سےبے دھڑک اپنا سر منڈاتے رہو

سب رقیبوں سے دوستی کر لومن گھڑت وصل کی سناتے رہو

اب بھی ملتے ہیں گانٹھ کے پورےڈھونڈھ لو اور ادھار کھاتے رہو

نام رکھ لو خلیل خاں اپنااور پھر فاختہ اڑاتے رہو

لوگ مغلوب ہو ہی جائیں گےشعر غالب کے گنگناتے رہو

ہم بھی استاد ہیں سنو علویؔاپنی غزلیں ہمیں دکھاتے رہو

— محمد علوی