5 اشعار

یقین کیسے دلاؤں کہ تجھ پے مرتا ہوں

Yaqeen kaise dilaaun ke tujh pe marta hoon

یقین کیسے دلاؤں کہ تجھ پے مرتا ہوںترے لیے میں ابھی اپنا خون کرتا ہوں

مرے مکان نے کیوں مجھ کو باندھ رکھا ہےاسی گلی سے میں ہر بار کیوں گزرتا ہوں

سڑک پہ لوگ کھلونا دکھائی دیتے ہیںمیں اپنے روم کی کھڑکی پے جاتے ڈرتا ہوں

وہ کون ہے جو مرے سامنے نہیں آتامیں اپنے آپ میں کس کو تلاش کرتا ہوں

زمانہ چاند سے آگے نکل گیا علویؔمگر میں برف کے گھر میں پڑا ٹھٹھرتا ہوں

— محمد علوی