8 اشعار

سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں

sochte rahte hain aksar raat mein

سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میںڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں

کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تککون پھرتا ہے کھلے سر رات میں

چاندنی پی کر بہک جاتی ہے راتچاند بن جاتا ہے ساغر رات میں

چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیںجھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں

کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنیبتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں

رات کا ہم پر بڑا احسان ہےرو لیا کرتے ہیں کھل کر رات میں

دل کا پہلو میں گماں ہوتا نہیںآنکھ بن جاتی ہے پتھر رات میں

علویؔ صاحب وقت ہے آرام کاسو رہو سب کچھ بھلا کر رات میں

— محمد علوی