7 اشعار

رشوت خور دہائی

Rishwat Khor Dihai

پینسٹھ نے روکا اور پوچھا:''کون ہو کیسے آئے ہو

اچھا آگے جانا ہےٹھیک ہے لیکن یہ تو کہو

میرے لیے کیا لائے ہو''میں نے کہا کیا چاہتے ہو

دانت اکسٹھ نے مار لیےباسٹھ تیسٹھ اور چوسٹھ نے

سر کے بال اتار لیےاب دو آنکھیں باقی ہیں

آگے رستہ ٹھیک نہیںتم چاہو تو بھائی مرے

آدھی بینائی لے لوچھاسٹھ کا ویزا دے دو

— محمد علوی