9 اشعار

روٹی

Roti

پڑوسی کی بکری نےپھر گھر میں گھس کر

کوئی چیز کھا لیبیوی نے سر پہ قیامت اٹھا لی

منے کورونے میں جیسے مزا آ رہا ہے

برابر وہ روئے چلا جا رہا ہےفقیر اب بھی چوکھٹ سے چپکا ہوا ہے

وہی روز والی دعا دے رہا ہےروٹی کے جلنے کی بو

اور اماں کی چیخوں سےگھر بھر گیا ہے

پنجرے میں چکراتے مٹھو کی آوازروٹی دو

بی بی جی روٹی دو'اس شور میں کھو گئی ہے

روٹی توے پر بھسم ہو گئی ہے

— محمد علوی