7 اشعار

سچ کہاں کہتا ہے جانے والا

Sach kahan kehta hai jaane wala

سچ کہاں کہتا ہے جانے والاخوب پچھتائے گا آنے والا

رات اور دن کا تسلسل کیا ہےایک چکر ہے تھکانے والا

مطمئن ہے وہ بنا کر دنیاکون ہوتا ہوں میں ڈھانے والا

صبح سے کھود رہا ہوں گھر کوخواب دیکھا ہے خزانے والا

تھک گیا تھا تو ذرا رک جاتامیری تصویر بنانے والا

دل میں اس درجہ خموشی کیوں ہےکیا ہوا شور مچانے والا

شرم سے ڈوب مرے گا علویؔخوش کہاں ہوگا ستانے والا

— محمد علوی