7 اشعار

سورج نکل رہا ہے

Suraj nikal raha hai

سورج نکل رہا ہےمنظر بدل رہا ہے

چاندی سے آسماں پرسونا پگھل رہا ہے

اڑتا ہوا پرندہپنکھا سا جھل رہا ہے

اک پیڑ راستے میںلگتا ہے چل رہا ہے

کھڑکی سے جھانکنے کوکمرہ مچل رہا ہے

بستر کی سلوٹوں میںکوئی خواب پل رہا ہے

سگریٹ کے ساتھ علویؔیہ دل بھی جل رہا ہے

— محمد علوی