7 اشعار

تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گا

Teesri aankh khulegi to dikhai dega

تیسری آنکھ کھلے گی تو دکھائی دے گااور کے دن مرا ہم زاد جدائی دے گا

وہ نہ آئے گا مگر دل یہ کہے جاتا ہےاس کے آنے کا ابھی شور سنائی دے گا

دل کا آئینہ ہوا جاتا ہے دھندلا دھندلاکب ترا عکس اسے اپنی صفائی دے گا

خوش تھا میں چہرے پہ آنکھوں کو سجا کر لیکنکیا خبر تھی مجھے کچھ بھی نہ سجھائی دے گا

اپنے ہی خون میں آلودہ کیے بیٹھا ہوںکون اس ہاتھ میں اب دست حنائی دے گا

موت بھی دور بہت دور کہیں پھرتی ہےکون اب آ کے اسیروں کو رہائی دے گا

بیچنے نکلا ہوں علویؔ مرا دیوان مگرجانتا ہوں میں کوئی پیسہ نہ پائی دے گا

— محمد علوی