5 اشعار

یار آج میں نے بھی اک کمال کرنا ہے

Yaar aaj main ne bhi ik kamaal karna hai

یار آج میں نے بھی اک کمال کرنا ہےجسم سے نکلنا ہے جی بحال کرنا ہے

آنکھیں اور چہرے پر چار چھ لگانی ہیںسارا حسن قدرت کا پائمال کرنا ہے

زندگی کے رستے پر کیوں کھڑا ہوا ہوں میںآتے جاتے لوگوں سے کیا سوال کرنا ہے

ہاں بچا لوں تھوڑا سا خود کو دن کے ہاتھوں سےآتی رات کا بھی تو کچھ خیال کرنا ہے

لو پچاس بھی اب تو خیر سے ہوئے پورےیہ تماشا کیا علویؔ ساٹھ سال کرنا ہے

— محمد علوی