6 اشعار

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہت

Yunhi hum par sab ke ehsan hain bahut

یونہی ہم پر سب کے احساں ہیں بہتکیوں کہیں کہ ہم پریشاں ہیں بہت

آنکھ میں رکھ لے یہ منظر پھر کہاںراہ میں تیری بیاباں ہیں بہت

موت تو آئی ہے آئے گی مگراور بھی جینے میں نقصاں ہیں بہت

یاد رکھنا بھی کوئی مشکل نہیںبھول جانے کے بھی امکاں ہیں بہت

پھر غزل کہنی ہے ہم کو اور ہمتاش کے پتوں میں غلطاں ہیں بہت

آدمی اچھے ہیں اس میں شک نہیںہاں مگر علویؔ مسلماں ہیں بہت

— محمد علوی