7 اشعار

یے آنکھ ہے تو اسے ایسی اب جلا مل جائے

Ye aankh hai to use aisi ab jala mil jae

یے آنکھ ہے تو اسے ایسی اب جلا مل جائےپرت دلوں کی کھلیں درد کا پتہ مل جائے

یہ کھیل بھی ہو ہوس اپنے ہاتھ لمبائےکہیں بھی ہو وہ مری گود میں پڑا مل جائے

گرا ہی دوں میں ابھی ہفت رنگ دیواریںبکھر ہی جاؤں اگر سر پھری ہوا مل جائے

ملے پھر ایسی زمیں جس کا اور چھور نہ ہوپھر اس زمیں پہ ہمیں آسماں دھرا مل جائے

کبھی تو باغ کا پیغام دشت میں آئےکہیں تو ریت پے چلتی ہوئی ہوا مل جائے

گزر ہمارا بھی سنسان جنگلوں میں ہوہمیں بھی آگ کے بدلے کہیں خدا مل جائے

اترتا ڈوبتا جاتا ہوں چپ کے دریا میںکسی کی چیخ کوئی دور کی صدا مل جائے

— محمد علوی