8 اشعار

دل جو شائستۂ جفا نہ ہوا

Dil jo shaista-e-jafa na hua

دل جو شائستۂ جفا نہ ہوالذت غم سے آشنا نہ ہوا

تو کبھی پاس سے جدا نہ ہوادل مگر صورت آشنا نہ ہوا

زندگی کا مزہ وہ کیا جانےجس کو مرنے کا حوصلہ نہ ہوا

ہم کو شکوہ رہا جدائی کااور تو پاس سے جدا نہ ہوا

تم سے کہنے سے فائدہ کوئیخیر جو کچھ ہوا برا نہ ہوا

سوچتے ہی رہے کہیں نہ کہیںنہ ہوا عرض مدعا نہ ہوا

یاد کرتے ہیں حسن و عشق ہمیںمر کے بھی ختم سلسلہ نہ ہوا

دام الفت میں جو پھنسا ناشادؔہو کے آزاد بھی رہا نہ ہوا

— ناشاد کانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں