تعارف
ناشادؔ کانپوری اردو شاعری کے اُن معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں کلاسیکی غزل کی روایت کو نئے احساسات کے ساتھ زندہ رکھا۔ ان کی پیدائش 26 اپریل 1908ء کو ہوئی، جبکہ بعض ذرائع ان کا مولد امبالہ بتاتے ہیں، تاہم ان کی ادبی شناخت کانپور سے وابستہ ہونے کے باعث وہ ناشادؔ کانپوری کہلائے۔ ان کا اصل نام عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آیا اور وہ اپنے تخلص ہی سے شہرت پاتے رہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جن سے انہوں نے اردو اور فارسی پڑھی۔ بعد ازاں 1925ء میں نظام کالج، حیدرآباد دکن سے میٹرک اور 1927ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ پھر آگرہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی اسناد حاصل کیں، جبکہ میرٹھ کالج میں قانون کی تعلیم بھی زیرِ تکمیل تھی۔تعلیم کے بعد ناشادؔ کانپوری سرکاری ملازمت سے وابستہ ہوئے اور نائب تحصیلدار مقرر ہوئے۔ اپنی قابلیت، محنت اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی کلکٹر کے منصب تک پہنچے اور اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی ذوق بھی پوری آب و تاب سے قائم رہا۔ وہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور سنجیدہ شعری حلقوں میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں سرکاری وقار، تہذیبی شائستگی اور علمی وقار ایک ساتھ جمع تھے، اسی لیے ان کی شاعری میں زندگی کے مشاہدے، انسانی نفسیات اور سماجی حقیقتوں کی گہری جھلک دکھائی دیتی ہے۔ناشادؔ کانپوری بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم ان کے کلام میں عشق، ہجر، زندگی کی بے ثباتی، فلسفۂ حیات، داخلی کرب اور انسانی محرومی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی زبان نہایت شستہ، رواں اور کلاسیکی اردو تہذیب کی آئینہ دار تھی، جبکہ اسلوب میں سادگی کے ساتھ فکری گہرائی بھی پائی جاتی ہے۔ ان کے معروف اشعار اور غزلیں جیسے ’’کون ہے راجہ کون ہے رانی‘‘، ’’جھوٹی دنیا جھوٹی مایا‘‘ اور ’’زندگی بے ثبات کتنی ہے‘‘ آج بھی ذوقِ ادب رکھنے والوں میں پسند کی جاتی ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں سرورِ سرمدی اور کیفِ سرمدی کا ذکر ملتا ہے۔ ناشادؔ کانپوری 5 دسمبر 1970ء کو وفات پا گئے، مگر اپنی سنجیدہ، باوقار اور فکر انگیز شاعری کے باعث اردو ادب میں آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
منتخب اشعار
دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے
زندگی درد سر نہ ہو جائے
دل جو شائستۂ جفا نہ ہوا
لذت غم سے آشنا نہ ہوا
کلام
- 01 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye
- 02 دل جو شائستۂ جفا نہ ہوا Dil jo shaista-e-jafa na hua
- 03 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye
- 04 فضا بدلے ہوا بدلے مکاں بدلے زماں بدلے Fiza badle hawa badle makaan badle zamaan badle
- 05 کوئی کیوں بے وفا ہے کیا کہئے Koi kyoon be-wafa hai kya kahiye
- 06 پھر ہوا سودا دل ناشاد کیا Phir hua sauda-e-dil-e-'Nashad' kya