6 اشعار

پھر ہوا سودا دل ناشاد کیا

Phir hua sauda-e-dil-e-'Nashad' kya

پھر ہوا سودا دل ناشاد کیاآ گیا بھولا کوئی پھر یاد کیا

ہم قفس کچھ سعی آزادی بھی کرہر گھڑی پھر شکوۂ صیاد کیا

بھا گئیں کیوں دہر کی رنگینیاںہو گیا ذوق نظر برباد کیا

عکس رنگیں ہے نگاہ شوق کااور شرح عالم ایجاد کیا

ذرے ذرے کا جگر ہے چاک چاکاور ہوگی عشق کی روداد کیا

زندگی ہے وقف سعیٔ رائیگاںاور مجھ ناشادؔ کی روداد کیا

— ناشاد کانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں