6 اشعار

دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے

Dil ko gham se hazar na ho jaaye

دل کو غم سے حذر نہ ہو جائےزندگی درد سر نہ ہو جائے

غم محبت اثر نہ ہو جائےبے خبر با خبر نہ ہو جائے

جا ہی پہنچیں ہم اس کے کوچے میںعقل اگر راہبر نہ ہو جائے

ناامیدی بھی ساتھ چھوڑ نہ دےدل بھی مفلس کا گھر نہ ہو جائے

دل کے داغوں کو تازہ کرنا ہےشب غم کی سحر نہ ہو جائے

حال ناشادؔ کیا کہے کوئیکہیں تم پر اثر نہ ہو جائے

— ناشاد کانپوری