7 اشعار

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

Kabhi toh khul ke baras abr-e-meherban ki tarah

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

«کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح» پریم واربرٹنی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرحمرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح

بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگرصبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح

وہ کون تھا جو برہنہ بدن چٹانوں سےلپٹ گیا تھا کبھی بحر بیکراں کی طرح

سکوت دل تو جزیرہ ہے برف کا لیکنترا خلوص ہے سورج کے سائباں کی طرح

میں ایک خواب سہی آپ کی امانت ہوںمجھے سنبھال کے رکھیے گا جسم و جاں کی طرح

کبھی تو سوچ کہ وہ شخص کس قدر تھا بلندجو بچھ گیا ترے قدموں میں آسماں کی طرح

بلا رہا ہے مجھے پھر کسی بدن کا بسنتگزر نہ جائے یہ رت بھی کبھی خزاں کی طرح

— پریم واربرٹنی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں