ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
کلام: نوشی گیلانی
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئےتنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے
کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میںتتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئےتنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے
کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میںتتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھےیہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے
اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خوابوہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے
کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرحمرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح
بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگرصبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح