7 اشعار

‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں

Chalo yeh maan leta hoon tumhara kuch nahin hoon main

‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں

«‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

‏چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں‏تو کیوں بے چین رہتے ہو؟ خدارا کچھ نہیں ہوں میں

‏کوئی جلوہ تھا سچ مچ کا یا کوئی خواب تھا میرا‏جو پوچھا کون ہو جی تم؟ پکارا کچھ نہیں ہوں میں

‏ میں پہلی بار یہ سمجھا کہ یہ آنکھوں کا دھوکا ہے‏دوبارہ آئینہ دیکھا، دوبارہ کچھ نہیں ہُوں میں

‏وہ ممتا کی نگاہیں تھیں جو سب کچھ دیکھ لیتی تھیں‏کہ جگنو چاند یا کوئی ستارا، کچھ نہیں ہُوں میں

‏کبھی تو یہ یقیں ٹھہرے، مرے ہونے سے سب کچھ ہے‏کبھی لگتا کہ ہُوں میں وہم سارا، کچھ نہیں ہوں میں

‏بھنور میں ڈوبتے کا میں سہارا ہو نہیں سکتا‏کوئی کشتی نہ ہُوں کوئی کنارا، کچھ نہیں ہُوں میں

‏ نہ خود کو آج تک پہچان پایا، کون ہے راشد؟‏لحد میں خاک جاؤں گا اتارا؟ کچھ نہیں ہُوں میں

— راشد ڈوگر