7 اشعار

‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے

Sab ke baahar jag mag jag mag, andar ghoor andhera hai

‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے

«‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

‏سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے‏سب کی راتیں چاند سے خالی، سب کا ماند سویرا ہے

‏سب کو دُکھ کے سانپ نے سونگھا، سب کے سینے گھائل ہیں‏سب کے سُکھ پرلوک سدھارے، سب کے ساتھ لٹیرا ہے

‏سب کی جِیب پہ کڑوا کھاجا، سب کا بھوجن باسی ہے‏سب کے تن پر مُونج کے کپڑے، سب کا گُٹھن بسیرا ہے

‏سب کی سانسیں اکھڑی اکھڑی، سب کی نیندیں اجڑی ہیں‏سب بِسْواس میں کچے برتن، سب کو شک نے گھیرا ہے

‏سب کو سچ اور جھوٹ کے بِھیتر، کوئی انتر نہ سوجھے‏سب کی آنکھیں رنگ کی اندھی، ہر کوئی مُوت مچھیرا ہے

‏سب کو سب ہی دُشمن سمجھیں، سب کے ساجن روٹھ گئے‏سب ہی سب کو بِین سنائیں، ہر کوئی سانپ سپیرا ہے

‏سب کی سب ہی جانیں راشد ، تم بن کر انجان رہو‏پیچھے مِیت کے چلتے جاؤ، اُس کا رستہ، تیرا ہے

— راشد ڈوگر