7 اشعار

دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائے

Dukh ki raat mein sukh ka suraj jaḍ jaye

دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائے

«دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائےان کی آنکھ جو میری آنکھ سے لڑ جائے

ان کے آنے سے آئے سرشاری سیوہ جائیں تو جینا مشکل پڑ جائے

وہ ہنس دیں تو رنگ برنگے پھول کھلیںجو روٹھیں تو جھٹ پٹ ہو پت جھڑ جائے

جیون کیا ہے؟ آتی جاتی سانسیں ہیںآخر کو تھم سانسوں کا جھکّڑ جائے

اشکوں سے تب سارا دامن جھل تھل ہومن کا بادل جب جب ضد پر اڑ جائے

بہہ لینے دو، بہتا پانی دریا ہےرک جائے تو بن یہ اک جوہڑ جائے

طعنے ترکش ہیں زہریلے تیروں کےنازک دل میں کوئی تیر نہ گَڑ جائے

— راشد ڈوگر