7 اشعار

زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے

Zindagani, ke dukh musalsal hai

زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے

«زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہےاک تسلسُل ہے اور پل پل ہے

سانس آتی ہے اور جاتی ہےچند پھونکوں کی ساری ہلچل ہے

ہر کوئی دوسرے کا قیدی ہےایک اوجھل تو ایک بوجھل ہے

ہر کوئی بھِیڑ میں اکیلا ہےاپنی خواہش ہے اپنی دَلدَل ہے

یہ جو روشن ہے شہر راتوں میںدر حقیقت یہ ایک جنگل ہے

یہ بھی اعجاز ہے محبت کاہم کہ صحرا ہیں ، آنکھ جل تھل ہے

میں نہ بیٹھوں گا پاس راشد کےلوگ کہتے ہیں وہ تو پاگل ہے

— راشد ڈوگر