7 اشعار

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی

Kahani ke andar bhi hai ek kahani

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی

«کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانیجوانی کے باطن میں ہے اک جوانی

عجب ہے کہ مرنے سے پھر جی اٹھے ہیںکہ فانی کے پہلو میں تھی جاودانی

خوشی سے بھی آئے اداسی کی خوشبودو غم مل کے بنتے ہیں خوشیوں کے بانی

بجے رو کے باجا ، ہنسیں سن کے آنسونئی ہے ابھی جو، وہ کل ہے پرانی

جو سرگم کی لہروں پہ غم تیرتا ہےتو درد و الم ہیں جنم کی نشانی

کسی کو ڈبوئے کسی کو جِلائےسو رنگوں کا مظہر ہے بے رنگ پانی

تغیر کے دھاگے سے ہستی سِلی ہےیہی تانا بانا بُنے زندگانی

— راشد ڈوگر