6 اشعار

‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں

Kehne ko chand haath se badh kar nahin hoon main

‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں

«‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

‏کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں‏باطن میں کائنات سے کم تر نہیں ہُوں مَیں

‏اے آفتاب ! گرمئِ عشقِ حبیب میں‏تُجھ سے سِوا ہوں، تیرے برابر نہیں ہُوں مَیں

‏تاریکیوں کے درمیاں جلتا ہوا چراغ‏راتوں کی داستان ہوں، دن بھر نہیں ہُوں مَیں

‏اپنے ہی حُسن کے لئے خود ہی ہُوا حجاب‏جانے سے جاودان ہوں، ہو کر نہیں ہُوں مَیں

‏دیکھے یہ صبح و شام، ہزاروں طرح کے رنگ‏افسوس! اپنی آنکھ کا منظر نہیں ہُوں مَیں

‏دل میں بسا کے اُن کو ، اُنہی کو دیا یہ دل‏ظاہر ضرور ہُوں مگر اندر نہیں ہُوں مَیں

— راشد ڈوگر