7 اشعار

رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے

Raat aur phir is pe teri yaad bhi hai

رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے

«رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہےدل کہ ہے برباد اور آباد بھی ہے

چاند ہے یا ہے کوئی ارمان نکلاچاندنی ہے اور کوئی افتاد بھی ہے

ایک تو یہ حکم ہے حد میں رہوں میںاور اس پر شعر کا ارشاد بھی ہے

ہاتھ نے چھوڑا ہے اور آنکھوں نے جکڑاقید میں بھی ہے مگر آزاد بھی ہے

ساتھ بھی ہے اور مجھ سے دور بھی ہےخواب جیسا ہے ، مرا ہمزاد بھی ہے

بے رخی سے مار دے، چُھو کر جِلائےوہ مسیحا بھی ہے اور جلاد بھی ہے

اس زمانے سے عجب رشتہ ہے میراگو کہ دشمن ہے ، مگر استاد بھی ہے

— راشد ڈوگر