دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
کلام: مرزا غالب
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پروہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُومجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو
مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنیببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو