7 اشعار

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

Hai dua yaad magar harf-e-dua yaad nahi

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

«ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں» ساغرصدیقی کا کلام ہے، جسے عنصر عظیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہےمیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہوہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں

کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیںکیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں

صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہےکب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہےجانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میںلوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

— ساغرصدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں