6 اشعار

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

Yeh jo deewane se do chaar nazar aate hain

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

«یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں» ساغرصدیقی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیںان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیںورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنومرگ امید کے آثار نظر آتے ہیں

مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیںآپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظرآج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغرؔسب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

— ساغرصدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں