7 اشعار

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

Main talkhi-e-hayaat se ghabra ke pi gaya

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا

«میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا» ساغرصدیقی کا کلام ہے، جسے ملک علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیاغم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا

اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکےیزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا

چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یارکچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضورمیں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیتدنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیاپھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغرؔ وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضوران کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا

— ساغرصدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں