ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
کلام: ساغرصدیقی
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں
میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہےمیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں
میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہےمیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں