میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیا
کلام: ساغرصدیقی
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیاغم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکےیزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کے پی گیاغم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکےیزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا